Meal Seç / Sure Seç

(URDU) QURAN
55 - الرَّحْمٰن
        
1. (وہ) رحمان ہی ہے
2. جس نے (خود رسولِ عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو) قرآن سکھایا٭o ٭ کفّار و مشرکینِ مکہ کے اِس الزام کے جواب میں یہ آیت اتری کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (معاذ اللہ) کوئی شخص خفیہ قرآن سکھاتا ہے۔ حوالہ جات کے لئے ملاحظہ کریں: تفسیر بغوی، خازن، القشیری، البحر المحیط، الجمل، فتح القدیر، المظہری، اللباب، الصاوی، السراج المنیر، مراغی، اضواء البیان اور مجمع البیان وغیرھم۔
3. اُسی نے (اِس کامل) انسان کو پیدا فرمایا
4. اسی نے اِسے (یعنی نبیِ برحق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مَا کَانَ وَ مَا یَکُونُ کا) بیان سکھایا٭o ٭ مفسرین کرام نے بیان کا معنی علمِ مَا کَانَ وَ مَا یَکُونُ بھی بیان کیا ہے۔ حوالہ جات کے لئے ملاخطہ کریں: تفسیر بغوی، خازن، جمل، المظہری، اللباب، زاد المسیر، صاوی، السراج المنیر اور مجمع البیان۔
5. سورج اور چاند (اسی کے) مقررّہ حساب سے چل رہے ہیں
6. اور زمین پر پھیلنے والی بوٹیاں اور سب درخت (اسی کو) سجدہ کر رہے ہیں
7. اور اسی نے آسمان کو بلند کر رکھا ہے اور (اسی نے عدل کے لئے) ترازو قائم کر رکھی ہے
8. تاکہ تم تولنے میں بے اعتدالی نہ کرو
9. اور انصاف کے ساتھ وزن کو ٹھیک رکھو اور تول کو کم نہ کرو
10. زمین کو اسی نے مخلوق کے لئے بچھا دیا
11. اس میں میوے ہیں اور خوشوں والی کھجوریں ہیں
12. اور بھوسہ والا اناج ہے اور خوشبودار (پھل) پھول ہیں
13. پس (اے گروہِ جنّ و انسان!) تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے
14. اسی نے انسان کو ٹھیکری کی طرح بجتے ہوئے خشک گارے سے بنایا
15. اور جنّات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا
16. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے
17. (وہی) دونوں مشرقوں کا مالک ہے اور (وہی) دونوں مغربوں کا مالک ہے
18. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے
19. اسی نے دو سمندر رواں کئے جو باہم مل جاتے ہیں
20. اُن دونوں کے درمیان ایک آڑ ہے وہ (اپنی اپنی) حد سے تجاوز نہیں کرسکتے
21. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے
22. اُن دونوں (سمندروں) سے موتی (جس کی جھلک سبز ہوتی ہے) اور مَرجان (جِس کی رنگت سرخ ہوتی ہے) نکلتے ہیں
23. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے
24. اوربلند بادبان والے بڑے بڑے جہاز (بھی) اسی کے (اختیار میں) ہیں جو پہاڑوں کی طرح سمندر میں (کھڑے ہوتے یا چلتے) ہیں
25. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے
26. ہر کوئی جو بھی زمین پر ہے فنا ہو جانے والا ہے
27. اور آپ کے رب ہی کی ذات باقی رہے گی جو صاحبِ عظمت و جلال اور صاحبِ انعام و اکرام ہے
28. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گےo
29. سب اسی سے مانگتے ہیں جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ وہ ہر آن نئی شان میں ہوتا ہے
30. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے
32. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے
33. اے گروہِ جن و اِنس! اگر تم اِس بات پر قدرت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے باہر نکل سکو (اور تسخیرِ کائنات کرو) تو تم نکل جاؤ، تم جس (کرّۂ سماوی کے) مقام پر بھی نکل کر جاؤ گے وہاں بھی اسی کی سلطنت ہوگی
34. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے
35. تم دونوں پر آگ کے خالص شعلے بھیج دیئے جائیں گے اور (بغیر شعلوں کے) دھواں (بھی بھیجا جائے گا) اور تم دونوں اِن سے بچ نہ سکو گے
36. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے
37. پھر جب آسمان پھٹ جائیں گے اور جلے ہوئے تیل (یا سرخ چمڑے) کی طرح گلابی ہو جائیں گے
38. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے
39. سو اُس دن نہ تو کسی انسان سے اُس کے گناہ کی بابت پوچھا جائے گا اور نہ ہی کسی جِن سے
40. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے
41. مجرِم لوگ اپنے چہروں کی سیاہی سے پہچان لئے جائیں گے پس انہیں پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے پکڑ کر کھینچا جائے گا
42. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے
43. (اُن سے کہا جائے گا:) یہی ہے وہ دوزخ جسے مجرِم لوگ جھٹلایا کرتے تھےo
44. وہ اُس (دوزخ) میں اور کھولتے گرم پانی میں گھومتے پھریں گے
45. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گےo
46. اور جو شخص اپنے رب کے حضور (پیشی کے لئے) کھڑا ہونے سے ڈرتا ہے اُس کے لئے دو جنتیں ہیں
47. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے
48. جو دونوں (سرسبز و شاداب) گھنی شاخوں والی (جنتیں) ہیں
49. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے
50. ان دونوں میں دو چشمے بہہ رہے ہیں
51. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے
52. ان دونوں میں ہر پھل (اور میوے) کی دو دو قِسمیں ہیں
53. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے
54. اہلِ جنت ایسے بستروں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے جن کے استر نفِیس اور دبیز ریشم (یعنی اَطلس) کے ہوں گے، اور دونوں جنتوں کے پھل (اُن کے) قریب جھک رہے ہوں گے
55. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے
56. اور اُن میں نیچی نگاہ رکھنے والی (حوریں) ہوں گی جنہیں پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا اور نہ کسی جِن نے
57. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے
58. گویا وہ (حوریں) یا قوت اور مرجان ہیں
59. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے
60. نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ نہیں ہے
61. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے
62. اور (اُن کے لئے) اِن دو کے سوا دو اور بہشتیں بھی ہیں
63. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے
64. وہ دونوں گہری سبز رنگت میں سیاہی مائل لگتی ہیں
65. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے
66. اُن دونوں میں (بھی) دو چشمے ہیں جو خوب چھلک رہے ہوں گے
67. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے
68. ان دونوں میں (بھی) پھل اور کھجوریں اور انار ہیں
69. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے
70. ان میں (بھی) خوب سیرت و خوب صورت (حوریں) ہیں
71. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے
72. ایسی حوریں جو خیموں میں پردہ نشین ہیں
73. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گےo
74. انہیں پہلے نہ کسی انسان ہی نے ہاتھ سے چُھوا ہے اور نہ کسی جِن نے
75. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گےo
76. (اہلِ جنت) سبز قالینوں پر اور نادر و نفیس بچھونوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے
77. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے
78. آپ کے رب کا نام بڑی برکت والا ہے، جو صاحبِ عظمت و جلال اور صاحبِ اِنعام و اِکرام ہے